- تمام غیر ملکی گھریلو معاونین (ایف ڈی ایچ ) جو خسرہ کے تئیں غیر-مامون*@ ہوں انہیں خسرہ، ممپس اور روبیلا کی حامل ایم ایم آر ویکسین حاصل کرنی چاہیے، ترجیحاً ان کے ہانگ کانگ میں پہنچنے سے پہلے ہی ایسا ہو جانا چاہیے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو، تو ان کے ہانگ کانگ پہنچ جانے کے بعد انہیں معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ملازمتی ادارے قبل از ملازمتی طبی چیک اپ پیکج میں اضافی اشیاء کے طور پر ایف ڈی ایچ کے لیے خسرہ یا ایم ایم آر ویکسین کے خلاف مدافعت کی حیثیت کی تشخیص شامل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
- حاملہ خواتین اور ایسی خواتین جو کہ حمل کے لیے تیار ہوں، کو اس بابت مشورے کے لیے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ خسرے کے حوالے سے مامون ہیں۔ چونکہ خسرے سے متعلقہ ویکسین دورانِ حمل نہیں دی جا سکتی ہے، اس لیے ان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ خسرے کے حوالے سے مامون نہ ہوں تو اس کے پھیلاؤ والے علاقوں یا ایسی جگہوں کا دورہ نہ کریں جہاں اس کے بہت زیادہ واقعات ہو رہے ہو
- عمومی طور پر، درج ذیل افراد کو ایم ایم آر MMR ویکسین^* نہیں لینی چاہیے:
1. ایم ایم آرMMR ویکسین یا ویکسین کے کسی جزو کی پچھلی خوراک سے سنگین الرجی ری ایکشن جیلاٹن یا مخصوص اینٹی بائیوٹکس کے خلاف شدید الرجی کی ہسٹری موجود ہو 2. ایسے افراد جن میں بیماریوں یا معالجے سے شدید امیونوسپریشن ہو (مثلاً موجودہ علاج برائے سرطان جیسا کہ کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی، جس میں امیونوسپریسو ادویات لی جائیں جیسا کہ کوریٹیکوسٹیرائیڈ کی زائد خوراک، وغیرہ۔) 3. حمل#
* @عام طور پر، لوگ خسرہ کے حوالے سے غیر مامون تصور کیے جا سکتے ہیں اگر (i ) ان کے اندر پہلے لیبارٹری ٹیسٹ سے خسرہ انفیکشن کی تصدیق نہ ہو ئی ہو، اور (ii ) ان کو خسرہ کے خلاف ویکسین نہ دی گئی ہو یا ان کا ویکسینیشن کیفیت نامعلوم ہو۔
^ ہمیشہ طبی مشورہ طلب کرنا چاہیے۔
٭ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونیشن کی معلومات کے مطابق، ایم ایم آر ویکسینز کے خلاف ہونے والے اینافائیلیکٹک ری ایکشنز انڈوں کے اینٹی جینس کے باعث ہونے والی بیش حساسیت سے متعلقہ نہیں ہیں مگر ان کا تعلق ویکسینز (جیسا کہ جیلاٹن) کے دیگر اجزاء سے ہے۔ انڈے سے الرجی رکھنے والے افراد میں ان ویکسینز کے لیے جانے کے بعد سنگین الرجی کے ری ایکشنز کا خطرہ نہایت معمولی ہے۔ اس لیے، نان-اینافائیلیکٹک ری ایکشنز کے حامل افراد کو ایم ایم آر ویکسیشن دینا محفوظ ہے۔ ایسے افراد جن میں انڈوں سے شدید الرجی ری ایکشنز (مثلاً اینافلیکسس) ہوتے ہوں، انہیں کسی مناسب ترتیب کے ساتھ ویکسین لگوانے کے لیے صحت کی نگہداشت پر مامور پیشہ ور فرد سے مشاورت کرنی چاہ
#عام طور پر، خواتین کو ایم ایم آر ویکسین لینے کے بعد تین ماہ تک حمل سے گریز کرنا چاہیے اور مناسب مانع حمل اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
9 جولائی 2019
|