(風疹(德國麻疹)單張 - 巴基斯坦文版)
روبیلا
سبب بننے والا عنصر
روبیلا کو "جرمن خسرہ" بھی کہا جاتا ہے اور یہ روبیلا وائرس سے پھیلتا ہے۔
طبی خصوصیات
اس کی علامات لوگوں میں عام طور پر سرخ باد کے پھٹ جانے، بخار، سردرد، گھبراہٹ، لمفی گلٹیوں کے بڑھ جانے، اوپری تنفسی علامات اور آشوب چشم کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ سرخ باد عام طور پر تقریباً 3 دنوں تک رہتا ہے، مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ مریضوں کو سرخ باد بالکل ہی نہ ہو۔ جوڑوں کے درد یا جوڑوں کی سوزش کے عارضے زیادہ عمومی طور پر روبیلا سے متاثر بالغ عورتوں میں ہوتے ہے۔ روبیلا کے انفیکشن سے نشوونما پانے والے جنین میں بے قاعدگیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ پیدائشی روبیلا سنڈروم، جس میں بہراپن، موتیابند، دل کی بناوٹ میں خرابی، دماغی کمی وغیرہ، جیسے عارضے شامل ہیں، حمل کے اولین 3 مہینوں کے دوران روبیلا انفیکشن کی شکار ہونے والی عورتوں کو پیدا ہونے والے بچوں میں ہو۔۔
منتقلی کا ذریعہ
یہ متاثرہ افراد کی ناک اور گلے کی رطوبتوں سے ربط میں آنے پر پھیلے ہوئے ننھے قطرات یا مریضوں سے براہ راست رابطہ میں آنے سے منتقل ہوتا ہے۔ یہ انتہائی زیادہ متعدی بیماری ہے اور متاثرہ شخص سرخ باد کی شروعات کے 1 ہفتے پہلے سے لے کر 1 ہفتے بعد تک مرض کو دوسرے لوگوں میں منتقل کر سکتا
انکیوبیشن مدت
یہ 23-12 دنوں، اور عام طور پر 14 دنوں تک موجود رہتا ہے۔
انتظام
اس کے لیے کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے مگر بے آرامی میں کمی لانے کے لیے ادویات تجویز کی جا سکتی ہیں۔
بچاؤ
1 .بہتر شخصی حفظان صحت کو برقرار رکھیں
- اتھوں کی صفائی کثرت سے کریں، بالخصوص منہ، ناک یا آنکھوں کو چھونے قبل؛ عوامی تنصیبات جیسا کہ ہینڈ ریلز یا دروازے کی نابز کو چھونے کے بعد؛ یا جب کھانسنے اور چھینکنے کے بعد ہاتھ تنفسی رطوبات سے آلودہ ہوں۔ ہاتھ کم از کم 20 سیکنڈوں کے لیے صابن اور پانی سے دھلوائیں، پھر ایک قابل تلفی کاغذی تولیہ یا ہینڈ ڈرائر سے خشک کریں۔ اگر ہاتھ دھونے کی سہولیات دستیاب نہ ہوں، یا جب ہاتھ واضح طور پر گندے نہ ہوں، تو ٪80 تا 70 الکوحل کی بنیاد کے حامل ہاتھ کا حفظان صحت ایک موثر متبادل ہے۔
- چھینکتے یا کھانستے وقت اپنے منھ اور ناک کو ٹشو پیپر سے ڈھک لیں۔ گندے ٹشو کو ڈھکن دار کوڑے دان میں ڈال دیں، پھر ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں۔
- تنفسی علامات ہونے پر، جراحتی ماسک پہنیں، کام یا اسکول پر نہ جائیں، بھیڑبھاڑ والی جگہوں پر نہ جائیں اور فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھائیں۔
- متاثرہ افراد کو سرخ باد کے ظہور کے بعد سے 7 دنوں تک گھر پر قیام کرنے کی تجویز دی جائے، اور کسی بھی مشتبہ شخص، بالخصوص حاملہ عورتوں اور حمل کی تیاری کر رہی عورتوں، کے رابطہ میں آنے سے بچنا چاہئے۔ کیونکہ جن عورتوں کے اندر روبیلا کے تئیں دفاعی استعداد نہیں ہے وہ بیماری سے متاثر ہو سکتی ہیں نیز ان کے جنین پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے، حاملہ عورت سے قریبی رابطوں کا پتہ لگایا جائے اور ان کی مدافعتی کیفیت کی جانچ کی جائے۔
2. بہتر ماحولیاتی حفظان صحت کو برقرار رکھیں
- باربار چھوئی جانے والی سطحوں جیسے کہ فرنیچر، کھلونوں اور عام طور پر اشتراک کیے جانے والے سامانوں کو گھر میں استعمال ہونے والے پتلا کیے گئے بلیچ کا 1:99 کے تناسب سے (٪ 5.25بلیچ کے 1 حصہ میں 99 حصہ پانی ملا کر) استعمال کر کے باضابطہ طور پر صفائی اور جراثیم کشی کریں۔ 15 – 30 منٹ تک چھوڑ دیں، اور پھر پانی سے صاف کریں اور خشک رکھیں۔ دھاتی سطحوں کے لیے، ٪70 الکوحل سے جراثیم دور کریں۔
- واضح آلودگیوں جیسے کہ تنفسی رطوبتوں کو پونچھنے کے لیے جذب کرنے والے قابل ضیاع تولیے استعمال کریں، اور پھر سطح اور قریبی علاقوں کو گھر میں استعمال ہونے والا بلیچ 1:49 کے تناسب سے (بلیچ کے 1 حصہ میں 49 حصہ پانی ملا کر) استعمال کرکے جراثیم دور کریں، 30-15 منٹ تک چھوڑ دیں، اور پھر پانی سے صاف کریں اور خشک رکھیں۔ دھاتی سطحوں کے لیے، ٪70 الکوحل سے جراثیم دور کریں۔
- اندر اچھی ہواداری رکھیں۔ بھیڑبھاڑ والے یا ناقص ہواداری والے عوامی مقامات پر جانے سے بچیں؛ اعلی خطرہ والے افراد اس طرح کی جگہوں میں ہوتے وقت جراحتی ماسک پہننے پر غور کر سکتے ہیں۔
3. ٹیکہ کاری
- روبیلا پر مشتمل ویکسین بیماری کو روکنے کے حوالے سے موثر ہے۔ ہانگ کانگ چائلڈ ہڈ امیونائزیشن پروگرام کے تحت، بچے جو روبیلا ویکسینیشن کی دو خوروکوں پر مشتمل کورس کرتے ہیں (براہ مہربانی ہانگ کانگ چائلد ہڈ امیونائزیشن پروگرام سے رجوع کریں)۔
- بجہ جننے کی عمر والی خواتیں جن کو ویکسین نہ لگی ہو انہیں حمل کی منصوبہ بندی سے قبل اپنے مدافتعی کیفیت کی جانچ کرنی چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو روبیلا پر مشتمل ویکسین لینی چاہیے۔
- مختلف مقامات اپنی وبائی پروفائلز کے حساب سے مختلف ٹیکہ کاری پروگرام تشکیل دیں گے۔ والدین کو اپنے مقام رہائش کے مقامی امیونائزیشن پرگرام کے مطابق اپنے بچوں کو ویکسین وصول کروانے کا انتظام کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، ایک سال سے کم عمر کے وہ بچے جو کہ کثرت سے سفر کرتے ہیں یا مین لینڈ میں قیام کرتے ہیں، ان کو روبیلا امیونائزیشن کے مین لینڈ شیڈول پر عمل پیرا ہو نا چاہیے جس کے مطابق روبیلا پر مشتمل ویکسین 8 ماہ کی عمر میں لینی چاہیے، جس کے بعد 18 ماہ کی عمر میں ایک اور خوراک لینی ہوتی
- تمام غیر ملکی گھریلو معاونین (ایف ڈی ایچ) جن کے اندر روبیلا کے حوالے سے دفاعی استعداد نہیں٭ @ہے، انہیں خسرے، ممپس اور روبیلا (ایم ایم آر) ویکسین لینی چاہیے، ترجیحی طور پر تب جب وہ ہانگ کانگ میں داخل ہوں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوتو ، وہ اپن ہانگ کانگ پہنچنے کے بعد معالج سے مشاورت کر سکتے ہیں۔ ملازمتی ایجنسیاں ملازمت سے قبل کے طبی معائنے کے پیکج میں اضافی جزو کے طور پر ایف ڈی ایچ کے لیے روبیلا یا ایم ایم آر ویکسینیشن کے حوالے سےدفاعی استعداد کی تشخیص کا جائزہ لینے پر غور کر سکتی ہیں۔
- عمومی طور پر، درج ذیل افراد کو ایم ایم آر MMR ویکسین^* نہیں لینی چاہیے:
- ایم ایم آر MMR ویکسین یا ویکسین کے کسی جزو کی پچھلی خوراک سے سنگین الرجی ری ایکشن ہوا ہو (مثلاً جیلاٹن یا نیومائیسین)
- ایسے افراد جن میں بیماریوں یا معالجے سے شدید امیونوسپریشن ہو (مثلاً موجودہ علاج برائے سرطان جیسا کہ کیموتھراپی اور ریڈیوتھراپی، جس میں امیونوسپریسو ادویات لی جائیں جیسا کہ کوریٹیکوسٹیرائیڈ کی زائد خوراک، وغیرہ۔)
- حمل#
@عام طور پر، ایسے روبیلا کے حوالے سے غیر مامون تصور کیے جا سکتے ہیں اگر (i) ان کے اندر پہلے لیبارٹری ٹیسٹ سے روبیلا انفیکشن کی تصدیق نہ ہو ئی ہو، اور (ii) ان کو روبیلا کے خلاف ویکسین نہ دی گئی ہو یا ان کی ویکسینیشن کیفیت نامعلوم ہ
^ ہمیشہ طبی مشورہ طلب کرنا چاہیے۔
*٭ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونیشن کی معلومات کے مطابق، ایم ایم آر ویکسینز کے خلاف ہونے والے اینافائیلیکٹک ری ایکشنز انڈوں کے اینٹی جینس کے باعث ہونے والی بیش حساسیت سے متعلقہ نہیں ہیں مگر ان کا تعلق ویکسینز (جیسا کہ جیلاٹن) کے دیگر اجزاء سے ہے۔ انڈے سے الرجی رکھنے والے افراد میں ان ویکسینز کے لیے جانے کے بعد سنگین الرجی کے ری ایکشنز کا خطرہ نہایت معمولی ہے۔ اس لیے، نان-اینافائیلیکٹک ری ایکشنز کے حامل افراد کو ایم ایم آر ویکسیشن دینا محفوظ ہے۔ ایسے افراد جن میں انڈوں سے شدید الرجی ری ایکشنز (مثلاً اینافلیکسس) ہوتے ہوں، انہیں کسی مناسب ترتیب کے ساتھ ویکسین لگوانے کے لیے صحت کی نگہداشت پر مامور پیشہ ور فرد سے مشاورت کرنی چاہ
#عام طور پر، خواتین کو ایم ایم آر ویکسین لینے کے بعد تین ماہ تک حمل سے گریز کرنا چاہیے اور مناسب مانع حمل اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
9 جولائی 2019